web 2.0

ملفوظاتِ شیخ الجرس

از: حکیم حاذق

آپ سلسلہ عالیہ جرنیلیہ کے نہایت جید بزرگ تھے۔ آپ کے جد امجد زمانہ ما قبل از تاریخ میں ماورا النہر سے حلقہ ۵۵ تشریف لائے۔ یہ وہی نہر ہے جس پر نہر والی حویلی واقع ہے۔  اور یہ وہی جدِ امجد ہیں جو آج کل بعبور دریائے شور، ماورا النہر الٹیمز، ایجویر روڈ پر محوِخواب ہیں۔ آپ کی درگاہ مرجعِ خاص و عام ہے۔ مرحوم سماع کے بے حد شوقین تھے۔ کئی مرتبہ خود بھی طبلے پر سنگت کرتے تھے۔ آپ ہی کے مرقدِ پُر نور میں روشن خیال اعتدال پسندی بھی دفن ہے۔

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں۔

 

آپ ہی کے مقبرے کے احاطے میں حضرت این آر بی کا مزارِ پُر انوار ہے۔  سجادہ نشین کا نام دانیال عزیز ہے، جو کہ چہار ابرو کا صفایا کیے، گیروے کپڑے پہنے، ہاتھ میں ٹوٹا ہوا کشکول لیے بیٹھا ہے۔ [یہ کشکول حضرت شوکت عزیز نے توڑا تھا]۔ اس برگزیدہ مجاور کا کہنا ہے کہ حضرت این آر بی کا دنیا سے پردہ وقتی ہے اوراہلِ ایمان کے لیے خوش خبری ہے کہ وہ عنقریب ظاہر ہوںگے اور انہیں پٹواریوں، تحصیل داروں اور ڈپٹی کمشنروں جیسی آفات سے نجات دلائیں گے اس کے ساتھ ساتھ آپ دجال، یاجوج ماجوج اور نرییندرمودی کو واصلِ جہنم کریں گے۔

شیخ الجرس بچپن ہی سے زہد و رع  اور تقویٰ میں یکتائے روزگار تھے۔ ابتدا میں سلسلہ شریفیہ میں بیعت تھے۔ کئی سال درگاہِ ماڈل ٹائون پر وظیفہِ جاروب کشی اور کفش برداری پر مامور رہے۔ تاہم کفش برداری میں کفش ہائے عسکری کو ترجیح دیتے تھے۔ اور ان کی چاپ کی آواز سن کر بے خودی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ سفر میں ہوں یا حضر میں، نمازِ دوگانہ پابندی سے جی ایچ کیو کی سمت ادا کرتے۔

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

اوائل تصوف میں گیٹ نمبر ایک پر چلہ کش ہوئے اور سلوک کے مقامات درجہ بدرجہ طے کیے۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ قطب الاقطاب کے درجہ پر فائز ہو چکے تھے، لیکن تب بھی سال بہ سال بابِ اول پر اعتکاف پر بیٹھا کرتے تھے اور بزرگانِ کور کی قدم بوسی  کو عین سعادت سمجھتے تھے۔

اہلِ تصوف میں ایسے کم اصحاب گزرے ہیں جنہیں بیک وقت صاحبِ سیف و قلم ہونے کا اعزاز حاصل ہو۔ شیخ صاحب کا طرہ امتیاز یہ تھا کہ وہ اپنے زمانے کے مشہور صاحبِ سیف و قلم و دوات تھے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ان کی سیف زیادہ تر وقت نیام میں اور قلم زیادہ تر دوات میں رہتی تھی۔ تاہم کم عُمری میں دیگر اصحابِ سیف کے ساتھ مظفر آباد میں دادِ شجاعت دیا کرتے تھے۔ جب آپ کی  ہمت، پامردی اوراستقلال کی خبر تختِ دہلی تک پہنچی تو خلعتِ فاخرہ اور مالائے مروارید کا حکم ہوا، مع پنج ہزاری منصب کے۔ ویزے سے البتہ انکار ہوا۔ یہ علمائے دہلی کی ایک فقہی غلطی تھی۔ شیخ صاحب نے ان کا معاملہ خدا پر چھوڑا۔

شیخ صاحب کا استخارہ مشہور تھا۔ ایک زمانے میں دیوانِ حافظ سے فال لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد ستاروں کی چال پر  توجہ دی۔ بہت سے فلمی اور غیر فلمی ستارے آپ کی شفقت سے فیض یاب ہوے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ریل کے ٹائم ٹیبل سے فال نکالنے لگے۔ اس زمانے میں ریل کی وزارت اور ولایت آپ کے سپرد تھی۔ آپ کی پیش گوئیوں اور ریلوے ٹائم ٹیبل پر عمل کرنے کے نتائج ایک ہی جیسے ہوتے تھے۔

طبیعت میں خوش خلقی حلم اور بردباری کُوٹ کُوٹ کر بھری تھی۔ طرزِ زندگی ��یگر اہلِ سلوک کی طرح سادہ تھا۔ پاپوشِ مبارک مصنوعہ گُوچی، خرقئہ مبارک حریرِ اطالوی کا  پسند کرتے تھے۔ کھانے اور انتخاب میں شکست کے بعد عموماً سگارِ ہوانا سے شغل کرتے۔ ساعت الید رولکس کی زیبِ تن کرتے تھے۔ نہایت فقیرانہ مزاج رکھتے تھے۔  عصا کمال دریا دلی سے عسکری قیادت کو وقف کردیا تھا تاکہ بوقتِ ضرورت ملک دشمن سیاست دانوں کی پشت پر رسید کیا جا سکے۔ تعمیرِ ملت میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔  لوٹا اپنا ذاتی تھا، سیاسی جماعتوں میں ساتھ لے جاتے تھے۔

عمر بھر ایک سادہ سی خانقاہ میں فرو کش رہے۔ مریدانِ باصفا اسے لال حویلی کہتے تھے۔ یہیں مشرق اور مغرب کے امرا وزرا اور سفرا اور ہر طرح کے زائرین شرفِ باریابی حاصل کرتے اور دل کی مراد پاتے تھے۔ دشمنانِ اسلام کا یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آپ لال مسجد کے قتلِ عام میں شریک تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ معصوم جانوں کے اتلاف پر نہایت دل گرفتہ تھے۔ کئی دنوں تک لالی ووڈ کے مباحات اور کالا کولا سے پرہیز کیا۔

حلقہ ۵۵ کا معرکہِ کارزار آج بھی زباں زدِ خاص و عام ہے۔ چشمِ فلک نے ایسا معرکہِ حق و باطل کم ہی دیکھا ہو گا۔ ایک طرف شیخ صاحب اور جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے چند جاں نثاروں کی جماعت تھی جو سب کے سب مجاہدہ و ریاضت میں یکتا تھے۔ اور آپ کے اشارہِ ابرو پر جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت آمادہ تھے۔ دوسری طرف حزبُ النُّون کے حقہ باز، جنہیں شرطہِ پنجاب کی حمایت حاصل تھی، جوق در جوق آئے تھے۔ سلمان تاثیر جیسے جوانمردوں کا ذکر ضروری ہے جنہوں نے آخری وقت پر ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور میڈیا کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔

حق و باطل کی کش مکش ابتدائے آفرینش سے جاری ہے۔ دنیاوی فتح و شکست بے معنی ہے۔ آخری فتح انصاف اور قلم دوات کی ہو گی۔ یہی مشیتِ ایزدی ہے۔

شیخ صاحب آخری عمر میں فلسفی شاعر، اقبال کو پڑھتے تھے اور کمال آبدیدہ ہوتے تھے:

وہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئی

اٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئی

اچھلتی، پھسلتی،سنبھلتی ہوئی

بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی

رُکے جب تو سِل چیر دیتی ہے یہ

پہاڑوں کے دِل چیر دیتی ہے یہ

کچھ بے خبر اور کم عقل نقادوں کا خیال تھا کہ علامہ مرحوم نے یہ اشعار جوئبارِ کہستانی کے بارے میں ارشاد کیے ہیں۔ تاہم اعلیٰ حضرت کا خیال تھا کہ یہ اشعار ریما کے بارے میں ہیں۔

واللہ اعلم با الصواب

Tags:

Add comment